ابنا: کراچي پوليس انٹليجنس کے سربراہ فاروق اعوان نے دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوي ، کراچي ونگ کے سرغنہ شفيع طارق کي گرفتاري کي تصديق کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ نوعيت کے قتل کے متعدد الزامات ہيں اور وہ ايک عرصے سے پوليس کو مطلوب تھا –
کراچي پوليس کے سينئر عہديدار فاروق اعوان نے بتايا کہ پوليس اور رينجرز نے ايک آپريشن کے دوران شفيع طارق کو گرفتارکيا ہے –
کراچي پوليس کے سينئر عہديدار فاروق اعوان نے کہا کہ لشکر جھنگوي کا يہ سرغنہ کراچي ميں متعدد لوگوں کے قتل ميں ملوث ہے اور مشہور شاعر پروفيسر استاد سبط جعفر کي شہادت ميں بھي اسي کا ہاتھ ہے –
شفيع طارق کو پہلے بھي گرفتار کيا گيا تھا ليکن دوہزار آٹھ ميں عدالت کے کہنے پر اس کو رہا کرديا گيا تھا - پاکستان ميں مختلف حلقوں کا کہناہے کہ دہشتگردوں کے سلسلے ميں کمزور عدالتي موقف کي بنا پر دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہوتے رہے ہيں- عام طور پر عدالت دہشتگردوں کو يہ کہہ کر رہا کرنے کا حکم دے ديتي ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کافي ثبوت نہيں ملے ہيں- پاکستان ميں ہونے والے آئندہ انتخابات کي سرگرميوں کے دوران دہشتگردانہ کاروائيوں ميں اب تک پانچ سو افراد مارے جاچکے ہيں.
.....
/169